منگلورو5؍مارچ (ایس او نیوز) ضلع جنوبی کینرا کے انچارج وزیر رماناتھ رائے نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ’جن سرکھشا یاترا‘ منعقد کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔
وزیر موصوف کا کہناتھا کہ :’’ضلع میں فرقہ وارانہ بدامنی پھیلانے کے پیچھے بی جے پی اور سنگھ پریوار کا ہی ہاتھ ہے۔اور اس ’جن سرکھشا یاترا‘ کے پیچھے بی جے پی کی نیت لوگوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی ہے، تاکہ تشدد برپا ہو اور سماج میں تفرقہ پیدا ہوجائے۔اس لئے ان لوگوں کواس قسم کی ریالیاں نکالنے کا اخلاقی طور پر کوئی حق ہی نہیں ہے۔‘‘
رماناتھ رائے نے مزید کہا:’’عوام صاف طور پر دیکھ رہے کہ بی جے پی کے لیڈر ان ’جن سرکھشا یاترا‘ کے دوران کس قسم کی اشتعال انگیز تقاریر کررہے ہیں۔ اننت کمار ہیگڈے، پرتاپ سنہاجیسے اراکین پارلیمان نے ایک مرتبہ بھی اسٹیج کو امن کا پیغام دینے کے لئے استعمال نہیں کیا ہے۔یہ لوگ تو اپنی اشتعال انگیزی کے مشہور ہیں۔ پھرایسے لوگ ’سرکھشا ریالی‘ کی بات کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘
انہوں نے کہا کہ:’’گزشتہ چار سالوں میں میرے تعلقہ میں 5قتل ہوئے ہیں۔ ان میں سے چار قتل بی جے پی اور سنگھ پریوار والوں نے انجام دئے ہیں اور ایک قتل دوسری پارٹی نے کیا ہے۔ قتل کے بعد دونوں پارٹیاں قاتلوں کی حمایت میں بولنے لگیں۔ کانگریس نے کبھی بھی قاتلوں کی حمایت میں بات نہیں کی ہے۔اس لئے کانگریس کی طرف سے قاتلوں کی پشت پناہی کرنے کا سوال ہی نہیں پیداہوتا۔کل ان لوگوں نے سولیا میں ایک منظر تصویر کی شکل میں(ٹیابلیو) پیش کیا تھا جس میں فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کاپیغام چھپا ہواتھا۔ پولیس نے اسے ضبط کرلیا۔ ایسے میں ’سرکھشا‘ کی بات کہاں سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ اس کا مقصد ’نقض امن‘ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘وزیر موصوف نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے لوگ بی جے پی کی اشتعال انگیزی کے جال میں نہ پھنسیں۔عقل اور ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ضلع میں پرامن ماحول بنائے رکھنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے. اس موقع پر ضلع کانگریس صدر ہریش کمار، ابراہیم کوڈیجال،ششی دھر ہیگڈے،کویتا سانیل،اے سی ونیا راج وغیرہ موجود تھے۔